ہیپاٹائٹس D

ہیپاٹائٹس D کیا ہے؟

ہیپاٹائٹس D، جگر میں ہیپاٹائٹس D وائرس کے سبب ہونے والی سوزش ہوتی ہے۔ اس کی اہم خصوصیت: ہیپاٹائٹس D وائرسز از خود افزائش نسل نہیں کر سکتے، اس کے لیے یہ ہیپاٹائٹس B وائرسز پر انحصار کرتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس D انفیکشن بہت شدت اختیار کر سکتا ہے.1

وقوع پذیری

  • دنیا بھر میں تقریباً 12 ملین افراد ہیپاٹائٹس D وائرسز سے متاثرہ ہیں2,6 ، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 48-60 ملین افراد کی ہے.7
  • یہ سمجھا جاتا ہے کہ جرمنی میں 30,000 افراد ہیپاٹائٹس D سے شدید طور پر متاثر ہیں.8
  • تاہم، بعض علاقوں میں اس کا خطرہ موجود ہے جیسا کہ منگولیا، مغربی اور وسطی افریقہ کے علاقے، بحیرہ روم کا خطہ، مشرق وسطیٰ، پاکستان، روس، برازیل اور وسطی و مشرقی ایشیاء، جہاں ہیپاٹائٹس D انفیکشنز بکثرت رُونما ہوتے ہیں.2,7,9
  • ایک اندازے کے مطابق ہیپاٹائٹس B سے متاثرہ 5 % افراد کو بیک وقت ہیپاٹائٹس D بھی ہوتا ہے.2,6

ہیپاٹائٹس D کے بارے میں ایک وضاحتی ویڈیو یہاں ملاحظہ کریں

ہیپاٹائٹس B وائرسز کی طرح، ہیپاٹائٹس D وائرسز کی بھی متاثرہ افراد کے خون اور دیگر جسمانی رطوبتوں میں شناخت کی جا سکتی ہے۔ اس کی منتقلی کے راستوں کا بھی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ ان میں بالخصوص شامل ہیں:1,2

  • متاثرہ فرد کے ساتھ غیر محفوظ طریقے سے (یعنی کنڈوم کے بغیر) جنسی اختلاط
  • ادویات کے استعمال کے لیے (سوئیاں اور سونگھنے کی نلکیاں)، جسم پر ٹیٹو بنوانے یا چھدوانے کے لیے آلودہ آلات کا استعمال
  • ذاتی نگہداشت کے استعمال کی اشیاء مل جُل کر استعمال کرنا، مثال کے طور پر ریزر یا ناخن تراش
  • بچے کی ولادت کے وقت، جس دوران ایک متاثرہ ماں بچے کو وائرسز منتقل کر سکتی ہے

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ ہیپاٹائٹس D انفیکشن صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ کو پہلے سے ہی ہیپاٹائٹس B ہو۔ ایک تفریق یہ کی جا سکتی ہے کہ آیا انفیکشن بیک وقت ہوا یا پھر یہ کہ مذکورہ شخص پہلے ہی ہیپاٹائٹس B سے متاثرہ تھا اور بعد میں ہیپاٹائٹس D وائرس سے متاثر ہوا۔1,3 اگر آپ ہیپاٹائٹس D وائرس اور ہیپاٹائٹس B وائرس سے ایک ساتھ متاثر ہوئے تھے، تو یہ بیک وقت انفیکشن کہلاتا ہے۔1,3,4 زیادہ تر صورتوں میں، یہ بغیر کسی اثرات کے خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔

 

صورتحال اس وقت بالکل تبدیل ہو جاتی ہے جب لوگ ہیپاٹائٹس B سے پہلے ہی متاثر ہوتے ہیں اور بعد ازاں ہیپاٹائٹس D وائرسز سے بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں، ایک سُپر انفیکشن ہوتا ہے۔1,3 90% متاثرہ افراد میں یہ دائمی نوعیت کا ہوتا ہے اور ہیپاٹائٹس B کے مقابلے میں زیادہ تر اور زیادہ تیزی کے ساتھ جگر کے سیروسس اور جگر کے کینسر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔2,5

ہیپاٹائٹس D انفیکشن کے ابتدائی کچھ ہفتوں کے دوران علامات میں عمومی طور پر تھکاوٹ، متلی اور قے، بھوک نہ لگنا، بخار، توجہ مرکوز کرنے میں کمی، جلد اور آنکھوں میں پیلاہٹ (یرقان)، گہری رنگت کا پیشاب، ہلکی رنگت کا پاخانہ اور شدید خارش شامل ہیں۔5 علامات کی شدت میں فرق ہو سکتا ہے۔ اکثر شدید نوعیت کے ہیپاٹائٹس D کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں یا پھر معمولی نوعیت کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن کا جگر سے تعلق ہونا ضروری نہیں۔10 اس میں مرض کی طویل عرصے تک تشخیص نہ ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے اور یہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے جہاں جگر کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ مرض کے سنگین مراحل تک پہنچنے پر شدید نوعیت کی علامات جیسا کہ پیٹ میں پانی پڑ جانا (اسائٹس) اور دماغی افعال کو نقصان جگر کی بیماری کا اشارہ دیتے ہیں۔10

اصولی طور پر، ہر وہ فرد جس میں ہیپاٹائٹس B انفیکشن کی تصدیق ہو چکی ہو، اس کا ہیپاٹائٹس D کا ٹیسٹ بھی ہونا چاہیئے۔ اس مقصد کے لیے، سب سے پہلے خون میں ہیپاٹائٹس D وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر نتیجہ مثبت آئے – یعنی کہ اینٹی باڈیز کا پتہ چل جائے – تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ یا تو آپ فی الوقت ہیپاٹائٹس D سے متاثر ہیں یا پھر یہ کہ آپ ماضی میں متاثر ہوئے تھے اور اب بیماری سے نجات پا چکے ہیں۔ یوں، خون کے ایک اور ٹیسٹ کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا انفیکشن کا خاتمہ ہو چکا ہے یا یہ فی الوقت متحرک ہے۔ اس کے بعد دوسرا ٹیسٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آیا ہیپاٹائٹس D کے وائرسز خون میں اب بھی موجود ہیں۔ اگر اس ٹیسٹ کا نتیجہ بھی آپ کو مثبت ملے تو آپ کے اندر انفیکشن متحرک ہے۔4

ہیپاٹائٹس D کا علاج بذریعہ ادویات کیا جا سکتا ہے۔ مقصد وائرس کو پھیلنے سے روکنا اور نتیجتاً جگر کو نقصان سے بچانا ہوتا ہے۔11 متعین کردہ معالج سے بات چیت کے ذریعے بہترین ممکنہ علاج کا پتہ لگانے اور مرض سے بحالی کے سفر کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

پہلی بار سننے میں یہ عجیب لگ سکتا ہے: تاہم اپنے آپ کو ہیپاٹائٹس D سے بچانے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہیپاٹائٹس B کے خلاف ویکسین لگوانا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اسی صورت میں ہیپاٹائٹس D وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں جب آپ ہیپاٹائٹس B سے بھی متاثر ہوں۔5 مزید برآں، آپ متاثرہ خون یا دیگر جسمانی رطوبتوں جیسا کہ نطفہ یا اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبتوں سے مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے ممکنہ حد تک رابطے میں آنے سے گریز کر کے انفیکشن کے خطرے کو کم سے کم کر سکتے ہیں:1,5,12

  • محفوظ جنسی تعلق
  • بذریعہ نس اور ناک سے لی جانے والی ادویات استعمال کرتے وقت، جراثیم سے پاک آلات کے استعمال کو یقینی بنائیں اور دوسروں کے ساتھ سرنجز شیئر مت کریں
  • جسم پر ٹیٹو بنواتے یا اسے چھدواتے وقت جراثیم سے پاک ماحول اور آلات کو یقینی بنائیں
  • ذاتی نگہداشت کی پراڈکٹس جو خون کے ذریعے آلودہ ہو سکتی ہوں، جیسا کہ ریزر یا ناخن تراش، انہیں ہرگز شیئر مت کریں

اضافی موضوعات

ہیپاٹائٹس B

اگر آپ ہیپاٹائٹس B کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں، تو آپ بہت سی مفید معلومات یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید جانیں

ہیپاٹائٹس C

ہیپاٹائٹس C دراصل کیا ہے؟ یہاں آپ مفید تفصیلات پائیں گے۔

مزید جانیں

جگر

کیا آپ ہمارے جگر اور اس کے کام کے بارے میں مزید جاننا چاہیں گے؟ تو پھر آپ درست جگہ پر ہیں ۔

مزید جانیں

کتابیات

  1. RKI-Ratgeber Hepatitis B und D [RKI guidebook Hepatitis B and D]. https://www.rki.de/DE/Content/Infekt/EpidBull/Merkblaetter/Ratgeber_HepatitisB.html (دوبارہ حاصل کردہ از مئی 2022)۔
  2. Stockdale AJ et al. J Hepatol 2020; 73: 523 -532.
  3. Koh C et al. Gastroenterology 2019; 156(2): 461–476.e1.
  4. Cornberg M et al. Z Gastroenterol 2021; 59: 691 -776.
  5. Hepatitis D. https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/hepatitis-d (دوبارہ حاصل کردہ از مئی 2022)۔
  6. RKI, Epidemiologisches Bulletin [Epidemiological Bulletin] 29/2021.
  7. Miao Z et al. J Infect Dis. 2020; 221(10): 1677 -1687.
  8. Hepatitis D-Virus. https://www.deutsche-leberstiftung.de/presse/pressemappe/lebererkrankungen/virushepatitis/hepatitis-d/

(دوبارہ حاصل کردہ از مئی 2022)۔

  1. RKI, Epidemiologisches Bulletin [Epidemiological Bulletin] 29/2019.
  2. Farzi P, Niro GA Semin Liver Dis 2012; 32: 228 -236.
  3. Urban S et al. Gut. 2021; 70(9): 1782-1794.
  4. Hepatitis D. https://www.leberhilfe.org/lebererkrankungen/hepatitis-d/ (دوبارہ حاصل کردہ از مئی 2022)۔