ہیپاٹائٹس C

ہیپاٹائٹس C کیا ہے؟

ہیپاٹائٹس C جگر میں ہیپاٹائٹس C وائرس کی وجہ سے ہونے والی سوزش کو کہتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اور سب سے عام پائی جانے والی متعدی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ تقریباً 71 ملین افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اچانک ہونے والے اور دائمی انفیکشن کے درمیان فرق رکھا گیا ہے۔ اچانک ہونے والا انفیکشن 40 % کیسز میں فوری طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے۔ تاہم، 4 میں 3 کیسز میں، یہ دائمی صورت اختیار کر لیتا ہے، یعنی انفیکشن ہونے کے 6 ماہ بعد بھی ہیپاٹائٹس C وائرسز خون میں نظر آ سکتے ہیں۔ بغیر علاج کے چھوڑ دیے جانے کی صورت میں، دائمی ہیپاٹائٹس C کے شکار 20% تک افراد کو 20 سال بعد سیروسِس شروع ہو جاتا ہے۔ جگر کے سیروسِس سے جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے.1

جگر کے سیروسِس کے ممکنہ طور پر پیدا ہونے کے عمل اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید یہاں پڑھیں۔

ہیپاٹائٹس C کے بارے میں ایک وضاحتی ویڈیو یہاں دیکھیں

ہیپاٹائٹس C وائرس غالب طور پر خون کے خون سے ملاپ پر منتقل ہوتا ہے، تاہم یہ دیگر جسمانی رطوبتوں مثلاً لعاب، نطفہ، پسینے یا حتیٰ کہ آںسوؤں میں بھی پایا جا سکتا ہے۔ انفیکشن کے خطرے کی حامل عمومی صورتوں میں درج ذیل شامل ہیں، مثلاً:1

 

  • غیر محفوظ (یعنی بغیر کنڈوم کے) جنسی عمل، جن میں زخمی ہونے کا زیادہ احتمال پایا جاتا ہو
  • نشہ آور امواد کے استعمال کے لیے آلودہ اشیاء کا استعمال یا انہیں مل جُل کر استعمال کرنا، جس میں ناک سے سونگھنے کا عمل شامل ہے کہ اگر اس مقصد کے لیے ناک سے سونگھنے والی نلکیاں یا بینک نوٹس استعمال کیے جائیں
  • ذاتی نگہداشت کے استعمال کی اشیاء کا اشتراک کرنا، مثال کے طور پر ریزر یا ناخن تراش
  • سوئی لگنے سے چوٹ لگنا (طبی عملہ)
  • بچے کی ولادت کے وقت، جس دوران متاثر مائیں بچے میں انفیکشن منتقل کرنے کا باعث بن سکتی ہیں

ہیپاٹائٹس C کو واضح طور پر ظاہر کرنے والی کوئی علامات موجود نہیں ہیں۔ 75 % متاثرہ افراد میں، بیماری بغیر کسی علامات یا معمولی علامت کے ساتھ ہوتی ہے۔ تاہم، کوئی بھی شخص جو طویل عرصے سے تھکاوٹ، ناقص کارکردگی، پیٹ کے بالائی حصے میں غیر مخصوص درد، خارش اور جوڑوں میں درد کا شکار ہو، انہیں اس سلسلے میں ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیئے۔ ہیپاٹائٹس C انفیکشن کی ایک اور ممکنہ علامت جگر کے خامروں میں اضافہ ہے۔ ہیپاٹائٹس C کے نتیجے میں جگر سے باہر بھی علامات ہو سکتی ہیں، جن میں گردے کا مرض، جوڑوں کی تکلیف، جلدی عوارض اور ذہنی تناؤ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، ہیپاٹائٹس C کے شکار افراد میں ذیابیطس میلیٹس ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے.1

ہیپاٹائٹس C انفیکشن معلوم کرنے کے لیے، خون کو ہیپاٹائٹس C وائرس کے خلاف موجود اینٹی باڈیز کے لیے ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ خون کے اندر ان اینٹی باڈیز کی موجودگی کا لازماً یہ مطلب نہیں ہے کہ ہیپاٹائٹس C انفیکشن متحرک ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص ماضی میں ہیپاٹائٹس C انفیکشن کا شکار ہوا ہو اور اس کا علاج کیا گیا ہو، تب بھی اینٹی باڈیز تمام عمر جسم کے اندر رہتی ہیں۔ لہٰذا اگر نتیجہ مثبت ہو – یعنی اینٹی باڈیز مل سکتی ہوں – تب بھی خون کا ایک اور ٹیسٹ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ہیپاٹائٹس C وائرس کی تاحال موجودگی کو جانچا جا سکے۔ اس کے بعد ہی ہیپاٹائٹس C کی تشخیص مصدقہ تصور ہوتی ہے۔ انتباہ: کامیاب علاج کے بعد بھی، ہیپاٹائٹس C وائرس سے ایک نیا انفیکشن ممکن ہے.1

یہ معائنہ بالخصوص درج ذیل کے لیے مفید ہوتا یے: 2

  • رگوں/ناک کے ذریعے نشہ آور امواد کا استعمال کرنے والے افراد (جنہوں نے فی الوقت یا ماضی میں ایسا کیا ہو)
  • پہلے سے HIV یا ہیپاٹائٹس B سے متاثرہ افراد
  • ہیپاٹائٹس C سے متاثرہ لوگوں کے جنسی عمل کے ساتھی اور شریکِ حیات
  • ہیپاٹائٹس C وائرس کے زیادہ پھیلاؤ والے ممالک سے آنے والے مہاجرین (مثلاً بحیرۂ روم، مشرقی یورپ)
  • قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے افراد
  • ایسے افراد جن کے جگر کے خامروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہو اور/یا ان میں ہیپاٹائٹس کی علامات موجود ہوں
  • خون، خون پر مشتمل اجزاء یا پیوند کاریوں کے وصول کنندگان (1992 سے قبل)
  • ہیموڈائلاسس (خون کی تقطیر) کا علاج موصول کرنے والے مریض
  • جسم پر ٹیٹو بنوانے یا اسے چھدوانے والے افراد
  • ایسے افراد جو اس طریقے سے جنسی اختلاط کرتے ہوں، جس میں زخمی ہونے کا خطرہ زیادہ ہو
  • ہیپاٹائٹس C سے متاثرہ ماؤں کے بچے
  • ایسے افراد جن کے پیشے کی وجہ سے انہیں انفیکشن لگنے کا خطرہ ہو
  • خون، اعضاء اور بافتوں کے عطیہ کاران

قانونی طور پر بیمۂ صحت کے حامل تمام افراد کا 35 سال کے بعد ان کے صحت کے معائنے کے حصے کے طور پر ایک بار ہیپاٹائٹس C (اور B) کا مفت ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے.3

اچانک ہونے والے ہیپاٹائٹس C کا عام طور پر علاج نہیں کیا جاتا، کیونکہ یہ اکثر خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے.1 دائمی کیفیت میں – یعنی کہ جب وائرس کا پتہ چل جائے، اچانک ہونے والے ہیپاٹائٹس کی کوئی علامات موجود نہ ہوں اور گزشتہ 6 ماہ کے دوران منتقلی کا کوئی خطرہ معلوم نہ کیا جا سکتا ہو – کئی براہِ راست اینٹی وائرل ادویات کی منظوری دی جاتی ہے جو بالعموم جسم قبول کر لیتا ہے اور بہت مؤثر ہوتی ہیں.1,4 علاج کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے، علاج ختم ہونے کے بعد دوبارہ خون کا ایک ٹیسٹ کروایا جاتا ہے تاکہ ہیپاٹائٹس C وائرسز کی تاحال موجودگی کو جانچا جا سکے.1

انتباہ: کامیاب علاج کے بعد بھی، ہیپاٹائٹس C وائرس سے ایک نیا انفیکشن ممکن ہے.1

ہیپاٹائٹس C کے خلاف فی الوقت کوئی ویکسین موجود نہیں، لہٰذا، مناسب اقدامات کر کے ممکنہ انفیکشن سے بچاؤ سب سے زیادہ اہم ہے۔ انفیکشن سے بچاؤ کے اہم باتیں:1

  • محفوظ جنسی عمل اپنائیں
  • نشہ آور امواد کا استعمال کرتے وقت، صرف جراثیم سے پاک آلات کا استعمال کریں اور انہیں دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کریں
  • جسم پر ٹیٹو بنواتے اور اسے چھدواتے وقت حفظانِ صحت کے ماحول پر توجہ دیں اور جراثیم سے پاک آلات کا استعمال کریں
  • ذاتی حفظانِ صحت کی اشیاء جو خون سے آلودہ ہو سکتی ہوں (مثلاً ریزر یا ناخن تراش)، انہیں ہرگز شیئر مت کریں

اضافی موضوعات

صارف کے لیے سروے

آپ کو Meine-Leber-und-ich.de پر پیش کی گئی معلومات کیسی لگیں؟ صارف کے لیے اس سروے میں بلا جھجھک حصہ لیں۔

مزید جانیں

ہیپاٹائٹس D

ہیپاٹائٹس D کے بارے میں معلومات حاصل کریں! ہیپاٹائٹس B سے کیا فرق ہے؟ اور آپ خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

مزید جانیں

جگر

کیا آپ ہمارے جگر اور اس کے کام کے بارے میں مزید جاننا چاہیں گے؟ تو پھر آپ درست جگہ پر ہیں ۔

مزید جانیں

کتابیات

  1. RKI-Ratgeber Hepatitis C [RKI guidebook Hepatitis C]. https://www.rki.de/DE/Content/Infekt/EpidBull/Merkblaetter/Ratgeber_HepatitisC.html (دوبارہ حاصل کردہ از مئی 2022)۔
  2. Sarrazin C et al. Z Gastroenterol 2018; 56: 756 -83.
  3. Kassenärztliche Vereinigung – Praxisnachrichten [Association of Statutory Health Insurance Physicians – Practice News]. https://www.kbv.de/html/1150_50632.php (دوبارہ حاصل کردہ از مئی 2022)۔
  4. Sarrazin C et al. Z Gastroenterol 2020; 58: 1110 -1131.