اکثر پوچھے گئے سوال

ہیپاٹائٹس B، C، D کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات کا سیکشن

یہاں آپ جگر کی صحت، ہیپاٹائٹس B، ہیپاٹائٹس C، ہیپاٹائٹس D کے موضوعات پر اکثر پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات پائیں گے۔
متعلقہ موضوع پر براہ راست جانے کے لیے اس پر کلک کریں ۔

جگر اور ہیپاٹائٹس

جگر کے کیا افعال ہوتے ہیں؟

جگر میٹابولزم کا ایک اہم عضو ہوتا ہے۔ یہ غذائی اجزاء کو ذخیرہ کرتا ہے، پروٹینز پیدا کرتا ہے، ہاضمے میں کردار ادا کرتا ہے اور ایسے مادوں کو توڑتا ہے جنہیں جسم مزید نہیں سنبھال سکتا یا جو اس کے لیے زہریلے ہوں۔

ہیپاٹائٹس کیا ہے؟

ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش ہوتی ہے (ہیپر = جگر، آئٹس = سوزش)۔ شدید صورتوں میں، اس کی وجہ سے عضو فعال رہنے کی اپنی اہلیت کھو دیتا ہے۔

ہیپاٹائٹس کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟

جگر کی سوزش یا ہیپاٹائٹس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں پیتھوجنز شامل ہیں جیسا کہ ہیپاٹائٹس کے متعدد وائرسز، الکحل کا بےجا استعمال، زہر خورانی، آٹوامیون بیماری، جگر پر چربی کی بیماری یا چوٹ۔

فائبروسِس کیا ہے؟

فابروسِس جگر پر آنے والا زخم ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ربط کار بافت جگر کے مردہ خلیوں کی جگہ لے لیتی ہے ۔

سیروسِس کیا ہے؟

جگر کا سیروسِس، جگر پر زخم (فائبروسِس) کا نہایت ہی سنگین مرحلہ ہے۔ اس کے ساتھ سنجیدہ نوعیت کی پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں جیسا کہ پیٹ میں پانی پڑنا، غذائی نالی میں رگوں کا مڑنا اور موٹا ہونا اور جسم کے اندر خون کا رساؤ، دماغی مرض اور جگر کا کام چھوڑ دینا شامل ہیں۔ یہ جگر کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔

ہیپاٹائٹس C

ہیپاٹائٹس C کیا ہے؟

ہیپاٹائٹس C، جگر میں ہیپاٹائٹس C وائرس کی وجہ سے ہونے والی سوزش کو کہتے ہیں۔ یہ اچانک پیدا ہو سکتی ہے اور پھر اچانک ٹھیک بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ 85 فیصد تک متاثرہ افراد میں دائمی صورت اختیار کر لیتی ہے۔2

آپ کیسے ہیپاٹائٹس C کا شکار ہوتے ہیں؟

اگر آپ ہیپاٹائٹس C وائرس سے متاثر ہوئے ہیں تو آپ کو ہیپاٹائٹس C ہو سکتا ہے۔

آپ ہیپاٹائٹس C وائرس سے ہونے والے انفیکشن سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟

خون کے خون سے ملنے سے گریز کر کے۔ روک تھام اور احتیاط کے اندر، آپ کو ہیپاٹائٹس C سے تحفظ کے لیے اہم اقدامات ملیں گے۔

ہیپاٹائٹس C بیماری کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

اچانک ہونے والے ہیپاٹائٹس C کی صورت میں، انفیکشن مزید کسی اقدام کے بغیر ٹھیک ہو جاتا ہے اور اس کے عموماً کوئی نتائج مرتب نہیں ہوتے۔ دائمی ہیپاٹائٹس C کی صورت میں یہ جگر کے سیروسِس اور جگر کے کینسر کے دائمی خطرے کا باعث ہوتا ہے۔1

مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ کیا مجھے ہیپاٹائٹس C ہے؟ کیا علامات ہیں؟

اس کی کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں۔ درج ذیل کے ذریعے ہیپاٹائٹس C کی شناخت کی جا سکتی ہے، مثلاً: تھکاوٹ اور ناقص کارکردگی، پیٹ کے بالائی حصے میں تکلیف، خارش، جوڑوں کی تکلیف اور جگر کے خامروں کا بڑھنا۔1 تاہم، یہ بیماری علامات کے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔

کیا میں ہیپاٹائٹس C کے خلاف ویکسین لگوا سکتا ہوں؟

نہیں، فی الوقت ہیپاٹائٹس C کے خلاف کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔

ہیپاٹائٹس C کا پتہ لگانے کے لیے کون سے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں؟

ہیپاٹائٹس C وائرس انفیکشن کا پتہ لگانے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کے ٹیسٹس کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے کہ مدافعتی نظام پیتھوجن سے نمٹ چکا ہے۔ یہ ریپڈ ٹیسٹس کے نام سے بھی دستیاب ہیں۔ اگر ٹیسٹ درست ہو اور ایک مثبت نتیجہ ظاہر کرے، تو HCV RNA کہلانے والے وائرل جینیٹک مٹیریل کی موجودگی کا پتہ لگانے کے ذریعے تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دوسرا ثبوت تشخیص کے لیے فیصلہ کن ہوتا ہے۔1

مجھے کتنی بار ہیپاٹائٹس C کا ٹیسٹ کروانا چاہیئے؟

اس سوال کا کوئی عمومی جواب نہیں ہے۔ کوئی بھی فرد جسے کسی ایک مخصوص واقعے کی وجہ سے خدشہ ہو کہ وہ ہیپاٹائٹس C سے متاثر ہو چکا ہے، اس کے لیے صرف ایک ہی بار ٹیسٹ کافی ہوتا ہے۔ تاہم، وہ جو بار بار یا مسلسل خطرناک صورتحالوں سے دوچار ہوتے ہیں، انہیں زیادہ کثرت سے، اور ممکن ہو تو باقاعدگی کے ساتھ ٹیسٹ کروانا چاہیئے۔ مثال کے طور پر رگوں کے ذریعے ادویات لینے والے افراد کو سالانہ بنیاد پر ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا جاتا ہے.2

میں ہیپاٹائٹس C کا ٹیسٹ کہاں سے کروا سکتا ہوں؟

ہیپاٹائٹس C ٹیسٹنگ کی سہولیات ڈاکٹرز کی سرجریز اور ہیلتھ کلینکس پر دستیاب ہیں، اور بعض صورتوں میں AIDS، نشہ آور امواد اور ان کی عادت کے خلاف معاونتی سہولت گاہوں میں بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس C کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟

ایسی خصوصی ادویات کے ذریعے جن کا ہدف بطور خاص ہیپاٹائٹس C وائرسز ہوتے ہیں۔ یہ بالعموم جسم آسانی سے قبول کر لیتا ہے اور یہ تقریباً تمام مریضوں صحت یاب ہوتے ہیں۔

مجھے ہیپاٹائٹس C کا علاج کیوں کروانا چاہیئے؟

علاج تقریباً ہمیشہ ہیپاٹائٹس C کے مرض سے نجات کا سبب ہوتا ہے، صحت میں بہتری لاتا ہے، جگر کو مزید نقصان سے بچاتا ہے یا حتیٰ کہ جگر کو پہلے سے پہنچنے والے نقصان سے بھی بحالی کے قابل بناتا ہے۔ یہ غور کرنا اہم ہے کہ: کامیاب علاج یہ یقینی بناتا ہے کہ آپ دیگر افراد کو اس وائرس سے متاثر کرنے کا مزید سبب نہیں بن سکتے۔

علاج پر ہونے والے خرچ کی ادائیگی کون کرتا ہے؟

بیمہ صحت کے فنڈز ہیپاٹائٹس C کے علاج کے اخراجات کا احاطہ کرتے ہیں4

کیا صحت یابی کے بعد میں دوبارہ ہیپاٹائٹس C سے متاثر ہو سکتا ہوں؟

جی ہاں، دوبارہ متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔

ہیپاٹائٹس B

ہیپاٹائٹس B کیا ہے؟

ہیپاٹائٹس B، ہیپاٹائٹس B وائرس کی وجہ سے جگر میں ہونے والی سوزش کو کہتے ہیں۔ یہ اچانک پیدا ہو سکتی ہے اور پھر اچانک ٹھیک بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم، بعض صورتوں میں، یہ دائمی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے 6,5

آپ کیسے ہیپاٹائٹس B کا شکار ہوتے ہیں؟

ہیپاٹائٹس B وائرس سے متاثر ہونے کے سبب آپ ہیپاٹائٹس B میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس B وائرس کیسے منتقل ہوتا ہے؟

منتقلی بنیادی طور پر بذریعہ خون ہوتی ہے۔ ذیل میں آپ ہیپاٹائٹس B کی منتقلی کے راستوں کی مثالوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

میں ہیپاٹائٹس B وائرس سے ہونے والے انفیکشن سے خود کو کیسے بچا سکتا ہوں؟

ہیپاٹائٹس B وائرس سے ہونے والے انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اہم ترین اقدام ویکسین لگوانا ہے۔ ایسے متعدد رویے اور اقدامات بھی موجود ہیں جو انفیکشن کے خلاف تحفظ دے سکتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس B کے کیا نتائج ہوتے ہیں؟

بالغ افراد میں، ہیپاٹائٹس B عموماً بغیر کسی نتائج کے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر مرض پرانا ہو جائے، تو آگے جا کر یہ جگر کے سیروسِس یا جگر کے کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے، بالخصوص ایسے میں کہ جب ہیپاٹائٹس B کا علاج نہ کروایا جائے.5

مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ آیا مجھے ہیپاٹائٹس B ہے؟ کیا علامات ہیں؟

ہیپاٹائٹس B وائرسز سے ہونے والا انفیکشن اکثر قابلِ شناخت نہیں ہوتا۔ تاہم، اگر مندرجہ ذیل علامات موجود ہوں، تو ہیپاٹائٹس B پر غور کیا جانا چاہیئے: 5

  • تھکاوٹ اور ناقص کارکردگی
  • پیٹ کے بالائی دائیں جانب تکلیف
  • بھوک نہ لگنا
  • زخم آنے کا رجحان
  • خارش زدہ جلد
  • جلد اور آنکھوں میں پیلاہٹ
  • گہرے رنگ کا پیشاب
  • پاخانے کا رنگ بدلنا
  • جگر کے خامروں میں اضافہ

کیا میں ہیپاٹائٹس B کے خلاف ویکسین لگوا سکتا ہوں؟

جی ہاں، ہیپاٹائٹس B کے خلاف مضر اثرات سے پاک اور موثر ویکسین موجود ہے.6

ہیپاٹائٹس B کا پتہ لگانے کے لیے کون سے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں؟

ہیپاٹائٹس B کا پتہ لگانے کے لیے خون میں ہیپاٹائٹس B وائرس کے مختلف اجزاء اور اس کے خلاف اینٹی باڈیز کی موجودگی کی جانچ کی جاتی ہے۔

ہیپاٹائٹس B کا ٹیسٹ کس کو کروانا چاہیئے؟

ہیپاٹائٹس B کی ٹیسٹنگ کا بطور خاص ان افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے جو

  • منشیات کے عادی ہوں اور سرنج یا ٹیوبز شیئر کرتے ہوں
  • متاثرہ افراد کے جیون ساتھی اور جنسی عمل کے ساتھی ہوں
  • وہ لوگ جو جنسی عمل کے ساتھی بکثرت تبدیل کرتے ہوں
  • ان ممالک کے افراد جہاں ہیپاٹائٹس B کا پھیلاؤ زیادہ ہے
  • وہ افراد جن کا تعلق شعبہ طب سے ہو اور خون کو ہاتھ لگاتے ہوں
  • حاملہ خواتین (حمل کے بتیسویں ہفتے سے معیاری معائنہ)7
  • نوزائیدہ بچے جن کی مائیں متاثرہ ہوں

میں ہیپاٹائٹس B کا ٹیسٹ کہاں سے کروا سکتا ہوں؟

ہیپاٹائٹس B ٹیسٹنگ کی سہولیات ڈاکٹرز کی سرجریز اور ہیلتھ کلینکس پر دستیاب ہیں، اور بعض صورتوں میں AIDS، نشہ آور امواد اور ان کی عادت کے خلاف معاونتی سہولت گاہوں میں بھی دستیاب ہوتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس B کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟

فوری نوعیت کے ہیپاٹائٹس B کو عموماً علاج کی ضرورت نہیں ہوتی، اور تمام حالات میں ہیپاٹائٹس B دائمی شکل اختیار نہیں کرتا۔ یہاں، مختلف عوامل، جیسا کہ وائرل جینیٹک میٹیریل (مختصراً HBV DNA) کا ارتکاز، یہ طے کرتا ہے کہ کیا علاج ضروری ہے۔5  ادویات کے ذریعے دو مختلف طریقہ علاج ہیں۔

ہیپاٹائٹس D

ہیپاٹائٹس D کیا ہے؟5,8

ہیپاٹائٹس D جگر میں ہیپاٹائٹس D وائرس کی وجہ سے ہونے والی سوزش کو کہتے ہیں، جس کے لیے ہیپاٹائٹس B وائرس کی وجہ سے ہونے والا انفیکشن بھی ہمیشہ ضروری ہوتا ہے۔

آپ کیسے ہیپاٹائٹس D کا شکار ہوتے ہیں؟

اگر آپ ہیپاٹائٹس D وائرس سے متاثر ہوئے ہیں تو آپ کو ہیپاٹائٹس D ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کے پھیلاؤ کے لیے یہ وائرس ہیپاٹائٹس B وائرس پر انحصار کرتا ہے۔

ہیپاٹائٹس D وائرس سے ہونے والا بیک وقت انفیکشن کیا ہے؟

بیک وقتی انفیکشن تب ہوتا ہے جب ایک مریض ہیپاٹائٹس B اور D کے وائرسز سے ایک ساتھ متاثر ہو۔

ہیپاٹائٹس D وائرس سے ہونے والا سُپر انفیکشن کیا ہے؟

سُپر انفیکشن تب ہوتا ہے جب مریض پہلے سے ہی ہیپاٹائٹس B کی وجہ سے عرصۂ طویل سے بیمار ہو اور پھر وہ ہیپاٹائٹس D وائرس سے بھی متاثر ہو جائے۔

ہیپاٹائٹس D وائرس کیسے منتقل ہوتا ہے؟

ہیپاٹائٹس B کی طرح، ہیپاٹائٹس D بھی وائرس سے متاثرہ خون اور دیگر جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

میں ہیپاٹائٹس D وائرس سے ہونے والے انفیکشن سے خود کو کیسے بچا سکتا ہوں؟

سب سے اہم اقدام ہیپاٹائٹس B کے خلاف ویکسین لگوانا ہے، کیونکہ ہیپاٹائٹس D وائرسز صرف ہیپاٹائٹس B وائرسز کی موجودگی میں تعداد میں بڑھتے ہیں۔ بصورت دیگر، درج ذیل اقدامات کے ذریعے وائرس سے متاثرہ خون، نطفے، اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبتوں سمیت دیگر جسمانی رطوبتوں سے بچاؤ اہم ہے۔

ہیپاٹائٹس D بیماری کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

بیک انفیکشن کی صورت میں، ہیپاٹائٹس D کے شدید نوعیت اختیار کرنے اور دیرپا چلنے والی بیماری میں تبدیل ہونے کے امکانات شاذونادر ہوتے ہیں۔ سُپر انفیکشن کی صورت میں صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ یہ شدید نوعیت کی دائمی بیماری میں بدل سکتا ہے۔

مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ آیا مجھے ہیپاٹائٹس D ہے؟ کیا علامات ہیں؟

ہیپاٹائٹس D کی علامات زیادہ تر مخصوص نہیں ہوتیں اور ان کا وائرس کی وجہ سے جگر میں ہونے والی دیگر اقسام کی سوزشوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

کیا میں ہیپاٹائٹس D کے خلاف ویکسین لگوا سکتا ہوں؟

ہیپاٹائٹس D کے خلاف حفاظت کی کوئی مخصوص ویکسین نہیں ہے۔ تاہم، ہیپاٹائٹس B کے خلاف ویکسین لگوانا، ہیپاٹائٹس D وائرسز سے ہونے والے انفیکشن سے بھی بچاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس D کا پتہ لگانے کے لیے کون سے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں؟

ہیپاٹائٹس D کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کروانے کے دو طریقہ کار ہیں، جو کہ دونوں ہی خون کے نمونوں کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ پہلے، ہم ہیپاٹائٹس D وائرسز کے خلاف اینٹی باڈیز تلاش کرتے ہیں۔ اگر ٹیسٹ مثبت ہو، تو وائرسز کا جینیٹک میٹیریل، جو کہ HDV RNA کہلاتا ہے، اس کا تصدیق کے لیے ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس D کا ٹیسٹ کس کو کروانا چاہیئے؟

ہیپاٹائٹس B کے شکار تمام مریضوں کو ہیپاٹائٹس D کا ٹیسٹ بھی کروانا چاہیئے۔10

میں ہیپاٹائٹس D کا ٹیسٹ کہاں سے کروا سکتا ہوں؟

ہیپاٹائٹس D کے ٹیسٹس کی سہولت ڈاکٹرز کی سرجریز اور ہیلتھ کلینکس پر دستیاب ہے۔

کیا ہیپاٹائٹس D قابلِ علاج ہے؟

ہیپاٹائٹس D کا علاج بذریعہ ادویات کیا جا سکتا ہے۔ مقصد وائرس کو پھیلنے سے روکنا اور نتیجتاً جگر کو نقصان سے بچانا ہوتا ہے۔8  متعین کردہ معالج سے بات چیت کے ذریعے بہترین ممکنہ علاج کا پتہ لگانے اور مرض سے بحالی کے سفر کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

کتابیات

  1. https://www.rki.de/DE/Content/Infekt/EpidBull/Merkblaetter/Ratgeber_HepatitisC.html (دوبارہ حاصل کردہ از ستمبر 2021)
  2. https://www.leberhilfe.org/lebererkrankungen/hepatitis-c-hcv/ (دوبارہ حاصل کردہ از اکتوبر 2021)
  3. https://www.rki.de/DE/Content/Infekt/EpidBull/Merkblaetter/Ratgeber_HepatitisB.html (دوبارہ حاصل کردہ از اکتوبر 2021)
  4. Cornberg M et al. S3-Leitlinie der Deutschen Gesellschaft für Gastroenterologie, Verdauungs- und Stoffwechselkrankheiten (DGVS) zur Prophylaxe, Diagnostik und Therapie der Hepatitis-B-Virusinfektion [S3 guideline of the German Society for Gastroenterology, Digestive and Metabolic Diseases (DGVS) on prophylaxis, diagnosis and treatment of hepatitis B virus infection] Z Gastroenterol 2021; 59: 691–776; قابلِ بازیافت بذریعہ:https://www.awmf.org/uploads/tx_szleitlinien/021-011l_S3_Prophylaxe-Diagnostik-Therapie-der-Hepatitis-B-Virusinfektion_2021-07.pdf
  5. RKI. Epid Bull 29/2021.
  6. https://www.frauenaerzte-im-netz.de/schwangerschaft-geburt/schwangerenvorsorge/mutterpass/ (دوبارہ حاصل کردہ از اکتوبر 2021)
  7. Urban S et al. Gut. 2021; 70(9): 1782-1794.